noorclinic.pk
Home / علاج کے دینی مسائل
1

علاج کے دینی مسائل

علاج کے مسائل

 س :فوجی ادارے کے افراد کی طرف سے آیا شرمگاہ کی تفتیش کرنا جائز ھے؟ تاکہ ختنہ شدہ نہ ھونے والے افراد کی ختنہ کی جائے اور بیماریوں کا علاج کیا جاسکے اور کیا مذکورہ عمل پر انھیں مجبور کیا جاسکتا ھے۔

ج:دوسرے کی شرمگاہ ظاھر کرنا، نگاہ کرنا اور کسی کو شرمگاہ ظاھر کرنے کے لئے مجبور کرنا جبکہ کوئی محترم شخص دیکھنے والا موجود ھو تو جائز نھیں ھے۔ مگر یہ کہ شرمگاہ ظاھر کرنے کی ضرورت ھو جیسے ختنہ یا علاج کرنا، لیکن مکلف کے ختنہ کےلئے دوسروں پر کوئی ذمہ داری نھیں ھے اور ختنہ کرنا خود مکلف کی ذمہ داری ھے اور اسی طرح مرض کے علاج کے لئے شرمگاہ ظاھر کرنا جائز نھیں ھے مگر یہ کہ بیمار کی زندگی خطرہ میں ھو تو جائز ھے۔

س:ڈاکٹر کی طرف سے خواتین کو لمس کرنے پر نگاہ کرنے کے جواز کے ضمن میں لفظ ضرورت کا بار بار ذکر آتا ھے ضرورت کے کیا معنی ھیں اور اس کی حدود کیا ھیں؟

ج:علاج کے وقت ضرورت لمس و نظر کے معنی یہ ھیں کہ مرض کی تشخیص اور علاج عرفاً لمس اور نظر کرنے پر موقوف ھو اور ضرورت کی حدود حاجت اور توقف کی مقدار کی حد تک ھیں۔

س :آیا لیڈی ڈاکٹر کسی عورت کے مرض کی تشخیص یا تفتیش کے لئے اس کی شرمگاہ    دیکھ سکتی ھے۔

ج:ضرورت کے وقت جائز ھے اس کے علاوہ جائز نھیں ھے۔

س  :علاج کے لئے آیا مرد ڈاکٹر عورت کے جسم کو لمس کرسکتا ھے اور اس پر نظر ڈال سکتا ھے؟

ج:اگر لیڈی ڈاکٹر سے علاج کرنا میسر نہ ھو تو ضرورت کے وقت مرد ڈاکٹر کے لئے اگر علاج لمس کرنے اور نگاہ کرنے پر ڈاکٹر کے سامنے بدن عریان کرنا موقوف ھو تو جائز ھے۔

س:ایسی صورت میں جب لیڈی ڈاکٹر آئینہ کے ذریعے خاتون کا معائنہ کرسکتی ھے خاتون کی شرمگاہ پر نگاہ ڈالنا اور شرمگاہ کو لمس کرنا جائز ھے؟

ج:اگر آئینے کے ذریعے معائنہ کا امکان ھو اور لمس کرنے یا بلاواسطہ نگاہ ڈالنے کی ضرورت نہ ھو تو جائز نھیں ھے۔

س: بلڈ پریشر وغیرہ میں مریض کا بدن لمس کرنا ضروری ھے اگر بلڈ پریشر دیکھنے والا جنس مخالف سے تعلق رکھتا ھو اور مذکورہ عمل طبی دستانے پھن کر انجام دینے کا امکان ھو تو آیا بغیر دستانے کے مذکورہ عمل انجام دینا جائز ھے؟

ج:اگر علاج کے لئے کپڑے یا دستانے پھن کر لمس کرنے کا امکان ھو تو مریض کے بدن کو لمس کرنے کی ضرورت نھیں ھے جو کہ جنس مخالف سے تعلق رکھتا ھے لھذا جائز نھیں ھے۔

س:آیا ڈاکٹر کسی خاتون کی پلاسٹک سرجری کرسکتا ھے جو کہ خوبصورتی کے لئے ھو اگرچہ لمس اور نظر کا باعث بنے؟

ج:خوبصورتی کے لئے سرجری کرنا کیونکہ کسی مریض کا علاج نھیں ھے لھذا نگاہ اور لمس جو کہ حرام ھے جائز نھیں ھے ھاں اگر جلنے کے علاج کی وجہ سے سرجری کی جائے اور اس صورت میں لمس یا نظر کے لئے مجبور ھو تو جائز ھے۔

س:آیا شوھر کے علاوہ عورت کی شرمگاہ پر مطلقاً نظر ڈالنا حرام ھے حتیٰ ڈاکٹر کا نظر کرنا؟

ج:شوھر کے علاوہ حتیٰ ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹر کا عورت کی شرمگاہ پر نظر ڈالنا حرام ھے ھاں اگر علاج کے لئے مجبور ھو تو جائز ھے۔

س:اگر مرد ماھر علاج نسواں ڈاکٹر لیڈی سے زیادہ ماھر ھو یا لیڈی ڈاکٹر تک رسائی خواتین کے لئے حرج کی حامل ھو تو کیا مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا جائز ھے؟

ج:اگر علاج حرام نگاہ اور لمس پر متوقف ھو تو مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا جائز نھیں ھے۔ ھاں اگر ایسی لیڈی ڈاکٹر تک رسائی سے معذور یا رسائی مشکل ھوجائے جو کہ معالجہ کے لئے کفایت کرتی ھے، تو مرد سے علاج کرانا جائز ھے۔

س:آیا ڈاکٹر کے کھنے پر منی ٹسٹ کے لئے استمناء کرنا جائز ھے؟

ج:اگر علاج اس پر متوقف ھو اور بیوی کے ذریعے منی نکالنا ممکن نہ ھو تو معالجہ کے لئے جائز ھے۔

error: noorclinic.pk Content is protected !!