noorclinic.pk
Home / جوڑوں کا درد اور درد کا علاج
جوڑوں کا درد اور درد کا علاج

جوڑوں کا درد اور درد کا علاج

اسلام علیکم
ڈاکٹر صاحب میری پھپھو جن کی عمر تقریبا ساٹھ سال ھے پچھلے چھ ماہ سے ان کے جوڑوں میں درد ھے پہلے شروع میں ہاتھ کی کلائی میں درد ہوتا تھا۔ کافی ڈاکٹروں سے علاج کروایا ھے کبھی تھوڑا بہت آرام آ جاتا تھا جب تک دوائی کھاتی رہتی کچھ دن آرام رہتا جب دوائی چھوڑ دیتی دو چار دن آرام رھتا اور اب دوائی بھی کھائیں تو دوائی کا اثر ھی نہیں ھوتا اور اب مرض زیادہ بڑھ گیا ھے اب گھٹنوں میں بہت درد ھوتا ھے گھٹنے سوج گئے ھیں اور بہت زیادھ درد کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے پاوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی بہت اکسیرے علاج کروائے ہیں آرام نہیں آتا برائے مہربانی کوئی پکا
علاج بتائیں
=================
گنٹھیا جوڑوں کا درد
گنٹھیا جوڑوں کا درد (RHEUMATOID ARTHRITIS) ایک سوزش پیدا کرنے والی بیماری ہے جو درد‘ سوجن‘ اکڑا اور جوڑوں کی کارکردگی متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس کی کئی خاص علامات ہیں جو کہ اسے دوسری اقسام کے آرتھرائٹس (ARTHRITIS) (جوڑوں کے درد) سے ممتاز کرتی ہیں۔
مثال کے طور پر گنٹھیا ترتیب وار حملہ کرتی ہے یعنی اگر ایک گھٹنا یا ہاتھ اس سے متاثر ہوا ہے تو دوسرا گھٹنا یا ہاتھ اسی طرح متاثر ہوگا۔ یہ بیماری عام طور پر کلائی کے جوڑوں اور ہاتھ کے نزدیک انگلیوں کے جوڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ جوڑوں کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بیماری کے شکار لوگوں کو تھکن محسوس ہوتی ہے۔ کبھی کبھی بخار ہو جاتا ہے یا مجموعی طور پر صحتمند نہ ہونے کا احساس حاوی رہتا ہے۔ گنٹھیا لوگوں پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں میں کچھ ماہ کے اندر ایک سال میں یا دو سال تک رہ کر بغیر کسی قابل ذکر نقصان کے ختم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگوں میں اس بیماری کی ہلکی اور کم شدید علامات ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدتر ہو جاتی ہیں اور کچھ عرصہ میں یہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتر محسوس ہونے لگتی ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں میں اس کی شدید ترین شکل دیکھنے میں آئی ہے جو بیشتر وقت متحرک ہوتی ہے اور زندگی میں کئی سال تک برقرار رہتی ہے اور جوڑوں کے سخت نقصان اور معذوری کا باعث بنتی ہے۔
==================
گنٹھیا کی علامات
-1 ڈھیلے‘ گرم اور سوجے ہوئے جوڑ
-2 متاثرہ جوڑوں پر ترتیب وار اثر
-3جوڑوں کی سوزش جو اکثر متاثر کرتی ہے کلائی اور ہاتھوں کے نزدیک انگلیوں کے جوڑوں کو بشمول گردن‘ کندھوں‘ کہنیوں ‘ کولہوں‘ گھٹنوں‘ ٹخنوں اور پاؤں کو
-4تھکن‘ وقتاً فوقتاً بخار ہونا اور ہر وقت بیماری کا عام احساس
-5صبح اٹھنے کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے تک شدید اکڑا اور درد
-6علامات کئی سال تک برقرار رہیں۔
-7لوگوں میں بیماری کے ساتھ ساتھ علامات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
-8 اگرچہ گنٹھیا ( رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) لوگوں کی زندگی اور کارکردگی پر بہت زیادہ اثرانداز ہو سکتی ہے۔ مگر ان کیلئے علاج کی جدید حکمت عملی جس میں درد کم کرنے والی دوائیں شامل ہوں‘ ایسی دوائیں جن سے جوڑوں کی کم ٹوٹ پھوٹ‘ ان کے آرام اور ورزش میں توازن اور مریضوں کی تربیت کے پروگرام اس بیماری سے متاثر لوگوں میں نئے سرے بہتر زندگی کا احساس پیدا کر سکتے ہیں اور وہ لوگ متحرک اور فعال زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ موجودہ سالوں میں جہاں رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس پر ریسرچ نے نیا رخ اختیار کیا ہے اس کے ساتھ ہی محققین نے اس بیماری کے علاج کے نئے اور بہتر طریقے بھی دریافت کئے ہیں۔

اس کے معاشی اور معاشرتی اثرات خواہ وہ کسی قسم کے آرتھرائٹس (ARTHRITIS) (جوڑوں کے درد) یا رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس کی وجہ سے ہوں نہ صرف افراد بلکہ قوم پر مرتب ہوتے ہیں۔

معاشی نقطہ نگاہ سے گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس ) کے علاج اور سرجری سے لاکھوں ڈالر سالانہ کا نقصان ہوتا ہے۔ روزانہ جوڑوں کا درد اس بیماری کی بڑی علامت ہے۔ اکثر لوگ اس وجہ سے ڈپریشن‘ بے چینی اور بے بسی محسوس کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی روزمرہ سرگرمیاں گنٹھیا کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔ خاندانی ذمہ داریوں اور خوشیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم آرتھرائٹس کے خود تنظیمی پروگرام موجود ہیں جو لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ درد پر قابو پانے اور بیماری کے دوسرے اثرات سے نبردآزما ہونے میں اور ان کی آزادانہ زندگی گزارنے میں رہنمائی کرتے ہیں۔

گنٹھیا کا درد کیسے بڑھتا اور پھیلتا ہے
جوڑ وہ مقام ہے جہاں دو ہڈیاں ملتی ہیں۔ ہڈیوں کے سروں پر کرکری ہڈی (CARTILAGE) ہوتی ہے جو دو ہڈیوں کی حرکت کو آسان بناتی ہے۔ جوڑ ایک کیپسول سے گھرا ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا اور اس کو سہارا دیتا ہے۔ جوڑ کا کیپسول ایک بافت سے جڑا ہوتا ہے جس کو سائنووئیم(SYNOVIUM) کہتے ہیں جو کہ سائنوویل رطوبت (CYNOVIAL FLUID) پیدا کرتی ہے۔
سائنوویل مائع (SYNOVIAL FLUID )
یہ ایک شفاف مادہ ہوتا ہے جو (CARTILAGE) (کرکری ہڈی)‘ ہڈیوں اور جوائنٹ کیپسول کو تر کرتا ہے اور طاقت دیتا ہے۔
دوسری بہت سی رہمیٹیک (RHEUMATIC) بیماریوں کی طرح گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) بھی ایسی بیماری ہے جس میں انسان مدافعتی نظام اس کے خلاف کام کرنے لگتا ہے۔ عام طور پر ایک آدمی کا مدافعتی نظام جو اس کے جسم کو بیماریوں کے خلاف تحفظ دیتا ہے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کے جوڑوں کے ٹشوز پر حملہ کر دیتا ہے۔ سفید خلیے جو مدافعتی نظام جو اس کے جسم کو بیماریوں کے خلاف تحفظ دیتا ہے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کے جوڑوں کے ٹشوز پر حملہ کر دیتا ہے۔ سفید خلیے جو مدافعتی نظام کے کارکن ہیں۔ سائنوویئم کی طرف سفر شروع کر دیتے ہیں اور سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ جس کی وجہ سے گرمی‘ سوجن‘ سرخی اور درد ہوتا ہے جو رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس کی روایتی علامات ہیں۔ سوزش کے عمل کے دوران سائنوویئم (SYNOVIUM) گاڑھا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے جوڑ سوج جاتے ہیں اور چھونے سے اکڑا کا احساس ہوتا ہے۔
جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے سائنوویم (SYNOVIUM) پھیلتا جاتا ہے اور کرکری ہڈی(CARTILAGE) کے ساتھ جوڑ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ارد گرد کے پٹھے اور عضلات کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس ) ہڈیوں کیلئے بہت نقصان کاباعث ہوتا ہے یہاں تک کہ ہڈیوں میں کھوکھلا پن آسٹیوپروسیس(OSTEOPOROSIS) پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
جوں جوں گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) بڑھتا ہے۔ سوزش زدہ سائنوویم (SYNOVIUM) پھیلتا جاتا ہے اور (CARTILAGE)کرکری وہڈی اور جوڑ کو تباہ کر دیتا ہے۔ ارد گرد کے پٹھے اور عضلات جو جوڑ کو سہارا دیتے اور قائم رکھتے ہیں کمزور ہو جاتے ہیں اور عام طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ اس کے نتیجے میں شدید درد ہوتا ہے اور جوڑ متاثر ہوتے ہیں۔
محققین (RESEARCHERS) اس بات پر متفق ہیں کہ گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )سے متاثر شخص کی صحت پہلے یا دوسرے سال ہی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس کی بروقت تشخیص اور علاج کی اشد ضرورت ہے۔
اس بیماری سے متاثر کچھ لوگوں میں جوڑوں کی خرابی کے علاوہ دوسری علامات بھی پائی جاتی ہیں۔ بہت سے گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )کے مریض خون کی کمی کا شکار ہوتے ہیں یا ان میں خون کے سرخ خلیے بننے کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ گردن کے درد منہ اور آنکھوں کی خشکی سے متاثر ہوتے ہیں۔ بہت کم لوگوں میں خون کی نالیوں‘ پھیپھڑوں کی بیرونی جھلی اور دل کی بیرونی جھلی کی سوزش ہوتی ہے۔
جوڑوں کا درد ہر نسل اور جنس کے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ بیماری درمیانی عمر کے لوگوں سے شروع ہوتی ہے لیکن بڑی عمر کے متاثرین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں میں بھی بڑھ سکتی ہے۔ دوسری اقسام کے آرتھرائٹس کی طرح رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس بھی مردوں کی نسبت عورتوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔ متاثرہ خواتین کی تعداد متاثر مردوں سے دو یا تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔
سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق 2.1 ملین لوگ یا امریکہ میں بالغوں کی آبادی کا 0.5 سے 1 فیصد تک گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )سے متاثر ہے۔ سائنسدان اب تک صحیح طور پر یہ نہیں جان سکے کہ انسان کا مدافعتی نظام اس کے خلاف کام کرنا کیوں شروع کر دیتا ہے۔ لیکن پچھلے چند سالوں کی تحقیق کے بعد یہ چند عوامل منظر عام پر آئے ہیں۔
جینیاتی (وراثتی) عوامل
سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کچھ جینز مدافعتی نظام میں گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )کے رحجان کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں اور مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
کچھ متاثرین میں یہ خاص جینز موجود نہیں ہوتے اور کچھ لوگوں میں ان کے جینز کی موجودگی بھی بیماری کو نہیں بڑھاتی۔ کچھ متنازعہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کی جینیاتی ساخت اس کا باعث ہے کہ آیا اس کے اندر یہ بیماری نشوونما پاتی ہے یا نہیں۔ لیکن اس کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے۔ تاہم اس میں ایک سے زیادہ جینز ملوث ہو سکتے ہیں کہ کسی شخص کو یہ بیماری متاثر کرے گی یا نہیں یا اس کی شدت کتنی ہو گی۔
ماحولیاتی عوامل: سائنسدانوں کے خیال کے مطابق جینیاتی طور پر اس بیماری کے حامل لوگوں میں کچھ بیرونی عوامل اور اس کی بڑھوتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جس میں وائرل اور بیکٹیریل انفیکشن ہو سکتے ہیں۔ مگر اب تک اصل وجہ کا پتہ نہیں چل سکا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس چھوت کی بیماری ہے اور یہ ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگ سکتی ہے۔
دیگر عوامل بعض سائنسدانوں کے خیال میں ہارمونی نظام کی تبدیلیاں بھی اس بیماری میں کارفرما ہوتی ہیں۔ خواتین میں مردوں کی نسبت یہ بیماری جلد بڑھتی ہے۔ حمل کے دوران اور بعد یہ بیماری بڑھ بھی سکتی ہے۔ بچے کو دودھ پلانے کے عمل کے دوران بھی اس بیماری میں اضافے کا امکان ہے۔
اگرچہ تمام جوابات اب تک کسی کے علم میں نہیں مگر ایک بات یقینی ہے کہ یہ مرض بہت سے عوامل کے باہم ملاپ کا نتیجہ ہے۔ محققین ان عوامل پر تحقیق میں مصروف ہیں۔
تشخیص: گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) کی تشخیص اور علاج کیلئے مریضوں اور معالجین کی باہمی کوشش کا بہت عمل دخل ہے۔ ایک شخص اپنے خاندانی معالج یا کسی رہیماٹالوجسٹ کے پاس جا سکتا ہے۔ وہ اپنے مرض کے بارے میں مشورہ کر سکے۔ رہیماٹولوجسٹ ایسا ڈاکٹر ہوتا ہے جو جوڑوں کے درد اور دیگر بیماریوں کا ماہر ہو جن میں ہڈیاں پٹھے اور جوڑ شامل ہیں۔
اس کے علاج میں دوسرے پیشہ ور بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جن میں نرسیں اور فزیوتھراپسٹ آرتھوپیڈک سرجن‘ ماہر نفسیات ‘ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور سوشل ورکر شامل ہیں۔
گنٹھیا(رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )کی تشخیص ابتدائی مراحل میں کئی وجوہات کی بنا پر مشکل ہو سکتی ہے۔ سب سے پہلے اس بیماری کیلئے کوئی خاص ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ مختلف لوگوں میں مرض کی مختلف علامات ہوتی ہیں اور کچھ لوگوں میں اس مرض کی شدت دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اس مرض کی علامات بعض اوقات عام قسم کے جوڑوں کے درد اور آرتھرائٹس سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ اسلئے بعض اوقات اس کی دوسری حالتوں کو دریافت کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ آخرکار تمام علامات وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔ ابتدائی مراحل میں صرف چند علامات موجود ہوتی ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ڈاکٹر مختلف طریقوں سے اس کی تشخیص کرتے ہیں۔
میڈیکل ہسٹری: یہ مریض کی زبانی ان علامات کا بیان ہوتا ہے کہ یہ مرض کب اور کیسے شروع ہوا۔ مریض اور معالج کے درمیان بہتر رابطہ اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔
مثال کے طور پر مریض کا جوڑوں کے اکڑا‘ سوجن جوڑوں کی کارکردگی کے بارے میں بیان اور یہ سب کچھ کس طرح وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔ یہ ڈاکٹر کو مرض کے بارے میں ابتدائی اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے اور یہ اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے کہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ کیسے تبدیل ہوتا ہے۔
طبی معائنہ: طبی معائنہ میں ڈاکٹر جوڑوں جلد عضلات اور پٹھوں کی قوت کا اندازہ لگاتا ہے۔
لیبارٹری میں تشخیص: ایک عام امتحان رہیماٹائیڈ فیکٹر(rheumatoid factor) کیلئے ایک اینٹی باڈی کا ٹیسٹ ہوتا ہے جو گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) کے مریض کے خون میں موجود ہوتا ہے۔ (اینٹی باڈی ایک خاص قسم کی پروٹین ہوتی ہے جس کو مدافعتی نظام پیدا کرتا ہے۔ بیرونی عوامل کے خلاف جسم میں مدافعت پیدا کرنے کیلئے) تمام گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس )کے مریضوں میں رہیماٹائیڈ فیکٹر کا نتیجہ +Ve نہیں ہوتا۔ خاص طور پر بیماری کے شروع دنوں میں۔ کچھ لوگوں میں بیماری زیادہ نہ بڑھنے کی صورت میں رہیماٹائیڈ فیکٹر کا نتیجہ +Ve نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ اس بیماری میں وائٹ بلڈ کانٹ(white blood cell count)‘ انیمیا (anemia)کا ٹیسٹ اور سیڈ ریٹ (sedimentation rate (often called the sed rate))ٹیسٹ بھی کئے جاتے ہیں۔ سیڈ ریٹ ٹیسٹ جسم میں سوزش کی مقدار کا اندازہ لگانے کیلئے کیا جاتا ہے۔
ایکس ریز MRI: جوڑوں میں ٹوٹ پھوٹ کی حالت کو دیکھنے کیلئے ایکس ریز کئے جاتے ہیں۔ بیماری کی ابتدائی حالت میں جس وقت ہڈیوں کے بھربھرا ہونے کا مشاہدہ نہ ہو ایکس رے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن بعد میں بیماری میں اضافہ اور شدت کا اندازہ لگانے کیلئے ایکس ریز استعمال کئے جاتے ہیں۔
===================================================
ادویات: اکثر لوگ جن کو گنٹھیا (رہیماٹائیڈ آرتھرائٹس) یعنی جوڑوں کا درد ہوتا ہے۔ ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ ادویات درد میں کمی کیلئے استعمال کی جاتی ہیں جبکہ کچھ سوزش کو کم کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ جبکہ کچھ بیماری کے بڑھنے کی رفتار کو سست کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں جن کو ماڈی فائنگ اینٹی رہیماٹائیڈ میڈیسن (modifying antirheumatic drugs )کہا جاتا ہے یا (DMARDS) بھی کہا جاتا ہے۔
کمر درد کا کامیاب علاج ، کمر درد کی مختلف ممکنہ وجوھات
انسان کی روز مرہ کی جسمانی مشکلات میں آج کل ایک
بڑا مسئلہ کمر درد بنتا جا رہا ہے ۔ تقریبا تین چوتھائی لوگ اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں کمر درد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
دور حاضر کی مشینی زندگی اور انسان کی کم تحرکی کمر درد میں مبتلا ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔
کمر درد ممکن ہے کہ تھوڑی مدت کے لیۓ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مسلسل اس مسئلے کا شکار بن رہا ہو ۔
کم مدتی کمر درد کا دورانیہ 4 سے 6 ھفتوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ طولانی مدت کی کمر درد اس سے بھی زیادہ عرصے کے لیےرہتی ہے ۔
بعض افراد تمام عمر کے لیۓ بھی اس مسئلے کا شکار ہو سکتے ہیں ۔
کمر درد کے فیزیولوجی لحاظ سے عوامل
کمر درد کے کامیاب علاج اور حل کے لیۓ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کو کمر درد ہونے کی اصل وجہ کا پتہ ہو ۔
عام دوائیوں کے استعمال سے ہم عارضی طور پر درد سے تو چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں مگر یہ مسئلے کا حل نہیں ہوتا ۔
اصل مسئلہ تو اپنی جگہ موجود ہوتا ہے مگر دوائی اور کیمیکل کے اثرات کی وجہ سے ہم درد کو محسوس نہیں کر رہے ہوتے ہیں ۔
کمر درد کے مریض جب اپنی اس شکایت کے ساتھ کسی بھی قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں تو زیادہ تر ڈاکٹر ایسی دوائیوں کا
استعمال کرواتے ہیں جو درد کو کم کرکے مریض کو عارضی سکون دیتی ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں فیزیوتھراپی کے
متعلق آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے مریض عام ڈاکٹروں سے درد کی دوائیں لے کر اپنا وقت گزارتا رہتا ہے ۔
کمر درد کے وجود میں آنے کی متعدد وجوھات ہو سکتی ہیں ۔ ریڑھ کی ہڈی پر جسم کی دوسری ہڈیوں اور ڈھانچے کا دارومدار ہوتا ہے۔
حقیقتاً یہ ایک ہڈی نہیں ہوتی بلکہ ہڈیوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے جس کی لمبائی جوان آدمی میں قریباً 27 انچ ہوتی ہے اور یہ سلسلہ
33 بے قاعدہ ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جو ریڑھ کے مہرے کہلاتے ہیں ان مہروں کے تین حصے ہوتے ہیں۔ پہلا جسم،
دوسرا دو افقی شاخیں اور تیسرا ریڑھ کی شاخ ریڑھ کی ہڈی کا اصلہ حصہ 34 مختلف ہڈیوں سے مل کر بنا ہوتا ہے جو ایک دوسری سے
اس طرح بندی ہیں کہ ان میں لچک پائی جاتی ہے اور ہم اپنی کمر کو آگے پیچھے، جدھر چاہیں موڑ سکتے ہیں ۔ اچھلنے کودنے ، دوڑنے اور
کروٹ لینے میں بھی سہولت رہتی ہے ۔ اس ہڈی کے سلسلہ میں چار خم ہیں جن کے باعث کمر پر بوجھ اٹھانے میں آسانی رہتی ہے ۔
کوئی جھٹکا لگے تو اس کا اثر دماغ تک نہیں پہنچتا ۔ سینے اور پیٹ کے جوف کی وسعت زیادہ ہوجاتی ہے۔ ہر دو مھروں کے درمیان میں
ڈسک موجود ہوتی ہے جس کا کام ریڑھ کی ہڈی میں ایک طرح سے لچک فراہم کرتے ہوۓ مختلف طرح کی ضربات کے اثرات کو
زائل کرنا ہوتا ہے ۔
ریڑھ کی ہڈی کے عقب میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس میں سے حرام مغر عبور کرتا ہے جس سے جسم کے مخلف حصوں کو اعصاب
کی ترسیل ہوتی ہے ۔
کمر کے ارد گرد پٹھوں ، لیگامنٹ اور ٹنڈان کا ایک جامع نظام ہوتا ہے
جو ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہوۓ ریڑھ کی ہڈی کو مضبوطی
فراھم کرتے ہیں ۔ یہاں پر خون کی نالیوں سے خوراک کی ترسیل ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حصوں میں سے اگر کسی میں بھی خرابی پیدا ہو جاۓ
تو وہ کمر درد کا باعث بن سکتی ہے ۔ ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود نرم حصوں
میں کوئی کھچاؤ آ سکتا ہے ، چوٹ لگ سکتی ہے لیکن اگر ہڈی ،
عصب یا خون کی نالی اس حصے میں متاثر ہو جاۓ تو خطرے کا باعث بن سکتی ہے ۔
اسی طرح ڈسک کے بیرونی حصے میں خرابی کے باعث ڈسک کا داخلی مواد ایک طرف کو پریشر دے سکتا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی
قریبی عصب پر دباؤ پڑنے سے درد اور مختلف طرح کی اعصابی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔
کمر درد کي وجوھات
کمر درد کی مختلف ممکنہ وجوھات کا ہم یہاں مختصر طور پر ذکر کریں گے ۔
٭ طولانی مدت کے لیے کھڑے رہنا
٭ غیر مناسب حالت میں بیٹھنا
٭ بعض ورزشیں کمر درد کا باعث بن جاتی ہیں
٭کسی وزنی چیز کو بلند کرنا
٭غیر مناسب حالت میں جھکنا یا غیر مناسب حالت میں گھومنا
٭ یہ بھی ممکن ہے کہ کمر میں کوئی چھوٹی موٹی خرابی موجود ہے مگر یہ اس وقت سامنے آتی ہے جب اس حصے پر پریشر آ جاۓ ۔
٭ انفکشن، ٹیومر، ہڈی کا ٹوٹنا یا دوسری چوٹیں کمر درد کا باعث بن سکتی ہیں ۔ ایسی حالت میں آرام کرتے ہوۓ بھی درد کا احساس ہوتا ہے ۔
بعض اوقات بخار اور وزن میں کمی بھی اس حالت میں لاحق ہو سکتی ہے ۔
متعلقہ شخص کے لیۓ ضروری ہے کہ فوری طور پر کسی قریبی فیزیوتھراپست یا کسی دوسرے معالج سے رجوع کرے ۔ بعض عام وجوھات
جن میں کمر درر ہو سکتی ہے ہم یہاں ان میں سے کچھ پر بات کرتے ہیں ۔
کھنچاؤ اور ہلکے زخم
یہ حالت اچانک کسی بلندی سےگرنے ، ٹریفک حادثے یا کھیل میں چوٹ لگنے سے پیش آ سکتی ہے ۔ بعض اوقات بہت زیادہ وزنی چیز کو
اٹھانے سے بھی یہ مسئلہ پیش آ سکتا ہے ۔ ایس حالت میں ممکن ہے ریڑھ کی
ہڈی کے گرد نرم حصوں میں کھنچاؤ آ جاۓ یا کوئی حصہ معمولی
سا پھٹ جاۓ ۔ ایسا ہونے کے بعد جسم کا مدافعاتی نظام حرکت میں آ جاتا ہے ۔
سوزش کے ساتھ درد کا احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔
نیند سے بیدار ہونے کے بعد جب حرکت کریں تو درد کا احساس شدت اختیار کر جاتا ہے ۔
موٹاپا
ریڑھ کی ہڈی جسمانی وزن کو ایک خاص حد تک تحمل کرتی ہے ۔ اگر انسان کا وزن حد سے زیادہ ہو جاۓ تو اس کا نتیجہ ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ
کی صورت میں نکلتا ہے جس کی وجہ سے ڈھانچے میں ہلکی تبدیلی کا خطرہ ہوتا ہے ۔ موٹاپا ہڈیوں کی اور بہت سی بیماریاں مثلا
اسٹیوپروسس اور جوڑوں میں توڑ پھوڑ کے عمل کی زیادتی کا باعث بھی بنتا ہے ۔
عمر میں زیادتی
بڑھاپے میں ڈسک اور جوڑوں کے اندر موجود مایع حالت میں موجود مادہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے اعصاب
پر پریشر پڑتا ہے جس کے بعد انسان بے حسی اور کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے ۔ بیماری اگر شدت اختیار کر جاۓ تو بڑھاپے میں کمر میں خم
آ جاتا ہے جس کی وجہ سے بوڑھے افراد کو ہمیشہ جھک کر چلنا پڑتا ہے۔
معالج سے کب رجوع کریں ؟
مندرجہ ذیل علامتوں کے ظاہر ہونے پر فوری طور پر اپنے قریبی معالج کے پاس جائیں ۔
٭ ایسا درد جو شدت کے ساتھ زیادہ ہو رہا ہو ۔
روزر٭ ایسا درد جو روز مرہ کے کاموں کو کرنے میں رکاوٹ بن جاۓ ۔
٭کمزوری، بےحسی، جسم کے کسی حصے کا سن ہونا، پیشاب اور پاخانے میں خرابی ۔
کمر درد سے بچنے کے لیۓ احتیاطی تدابیر
وزن بلند کرتے ہوۓ استعداد سے زیادہ وزنی چیز کو مت اٹھائیں حتی ہلکی چیز کو اٹھاتے ہوۓ بھی مناسب طریقے سے اٹھائیں ۔
وزن اٹھاتے ہوۓ مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں ۔
٭وزن بلند کرنے سے پہلے اپنے جسم کے پٹھوں کو کچھ وقت کے لیۓ حرکت دیں اور کھینچیں ۔
٭ کوشش کریں کہ تھوڑی بہت وزنی چیزوں کو جلدی میں نہ اٹھائیں ۔
٭ اپنے کندھے سے بلند چیز کو اٹھانے کے لیے سیڑھی کا استعمال کریں ۔
٭ چیز اٹھانے ہوۓ جسم کو اس کے نزدیک کریں ۔ فاصلے سے چیز کو مت اٹھائیں ۔
٭ دونوں پاؤں کا درمیانی فاصلے کندھوں کے فاصلے کے برابر رکھیں ۔
٭ چیز کو زمین پر رکھتے ہوۓ خم ہونے سے پرہیز کریں اس کی بجاۓ بیٹھ جائیں اور پھر چیز کو زمین پر رکھیں ۔
٭ وزنی چیزوں کو جا بہ جا کرتے ہوۓ بہتر ہے کہ کسی قریبی فرد سے مدد لے لیں ۔
کمر درد میں ورزش کے فائدے
ورزش اگر درست طریقے سے فیزیوتھراپسٹ ڈاکٹر کے مشوروں کے مطابق کی جاۓ تو بےحد مفید ثابت ہو سکتی ہے ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ بعض ورزشیں آپ کی کمر درد کو شدید کر دیں ۔ اس لیۓ ورزش شروع کرنے سے پہلے کسی قریبی
فیزیوتھراپسٹ سے لازمی طور پر رجوع کریں ۔
٭ ایسی ورزش جس میں چوٹ لگنے کا خطرہ کم ہوتا ہے کمر درد کے لیۓ بےحد مفید ہے ۔ مثال کے طور پر پیادہ روی ،
سائیکل سواری اور تیراکی وغیرہ وغیرہ ۔
٭ اگر کمر کے پٹھے جکڑے ہوۓ ہوں تو ایسی حالت میں ورزش کرنے سے پہلے گرم پانی سے غسل بےحد مفید ہوتا ہے ۔
٭ ورزش کرتے ہوۓ لباس کھلا اور آرام دہ پہنیں اور کھیلوں کے لیۓ مخصوص جوتوں کا استعمال کریں ۔
٭ ہر وہ ورزش جو باعث درد ہو یا درد میں تشدید کا باعث بنے اسے فوری طور پر متوقف کر دیں ۔

مکمل کورس حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں پاکستان میں ھوم ڈلیوری فری
کورس کی قیمت صرف 3000روپے

error: noorclinic.pk Content is protected !!